بھوپال،19دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) کی رپورٹ میں افسران کے ساتھ کانگریس قائدین کے نام سامنے آنے کے بعد کانگریس نے جوابی حملہ کیاہے۔
سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے قریب ترین افسر نیرج و شسٹھ پیسوں کے لین دین کی نگرانی کرتے ہیں ۔ انکم ٹیکس نے 2013 میں چھاپہ ماراتھا، جس میں کمپیوٹر کی جانچ میں انکشاف ہوا تھا کہ 12 اور 29 نومبر 2013 کو نیرج و شسٹھ نے گجرات کے وزیر اعلی کو 5-5 کروڑ روپے دیئے تھے۔ محکمہ انکم ٹیکس کو اس طرح کے اور بھی اندراجات ملے تھے۔دگ وجے نے کہا کہ اس وقت ڈائری اور کمپیوٹر سے موصولہ اطلاع کی بنیاد پر نیرج وشسٹھ سینئرافسر کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ نیرج وشسٹھ ایک سینئر فرسٹ کلاس آفیسر ہیں۔ فرسٹ کلاس افسر کو سابق چیف منسٹر کا او ایس ڈی نہیں بنایا جاسکتا ، لیکن شیوراج سنگھ نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ سے کہہ کر ضابطہ کیخلاف وشسٹھ کی پوسٹنگ کرائی تھی ۔دگ وجے نے الزام لگایا کہ سی بی ڈی ٹی رپورٹ میں نامزد افسران ای ٹینڈرنگ گھوٹالے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ شیوراج حکومت کی تیسری میعاد میں 1 ہزار کروڑ کا گھوٹالہ ہوا۔ جس نے اس کو پکڑا ہے ،وہ چیف منسٹر کا چیف سکریٹری ہیں۔ اگر پانچ سال تک موقع ہوتا تو شیو راج حکومت کے متعدد وزرا کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ اس سے بچنے کے لئے بی جے پی نے کمل ناتھ حکومت کا تختہ دھڑن کردیا۔
کمل ناتھ حکومت کے دوران لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کے سلسلے میں انکم ٹیکس کے چھاپہ میں دستیاب دستاویزات میں کانگریس کے کئی بڑے رہنماؤں کے نام سامنے آنے کے بعد مدھیہ پردیش کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔